آخری بُت ۔۔۔۔۔۔۔ تجھ کو دفنا کے ابھی آئی ہوں تیرا استھان کہ اونچا تھا ۔۔۔ بہت اُونچا تھا گِر کے تُو چُور ہوا ہے ایسے بڑی مشکل سے سمیٹے ترے ریزے میں نے اور بڑے کرب سے دفنایا ہے گردِ حیرت سے اَٹے چہرے پر تہہ بہ تہہ دُکھ بھی ہیں مایوسی بھی جلتے صحرائوں میں آنکھوں کی مِرے اَن گنت اُلجھے سوالوں کے بگولے رقصاں ریت کے ذرّے نہیں یہ میں ہوں میرا ایقانِ شکستہ مِری اُمیدیں ہیں تُو کہ تھا آخری بُت میرے صنم خانے کا تجھ کو دفنا کے ابھی آئی ہوں
Related posts
-
پروین شاکر ۔۔۔ بلاوا
میں نے ساری عمر کسی مندر میں قدم نہیں رکھا لیکن جب سے تیری دعا میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ نک نیم
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ٹھیک ہی کہتے ہو! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں... -
پروین شاکر ۔۔۔ جدائی کی پہلی رات
آنکھ بوجھل ہے مگر نیند نہیں آتی ہے میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں...
